سنن نسائی حدیث ۱۰۶۱ - رکوع سے اٹھ کر حمد

رکوع سے اٹھ کر اللہم ربنا ولک الحمد کہنا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۶۱

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قال : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے۔

سنن نسائی حدیث ۱۰۶۱ کا خلاصہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہتے۔ یہ حدیث مختصر ہے مگر نماز کے ایک خاص مقام کا ذکر کرتی ہے۔ رکوع کے بعد بندہ سیدھا کھڑا ہوتا ہے، اور اس وقت اللہ کی حمد بیان کرتا ہے۔ اس روایت میں یہی الفاظ نقل ہوئے ہیں: اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد ہے۔ نماز میں حمد کا یہ مقام بندے کو یاد دلاتا ہے کہ رکوع میں جھکنے کے بعد بھی زبان اللہ کی تعریف میں لگی رہے۔ اس حدیث کو ربنا لک الحمد، رکوع سے اٹھنے کی دعا، اور نماز کے اذکار کے عنوان سے تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع سے سر اٹھانے کے بعد «اللہم ربنا ولک الحمد» کہنا حدیث سے ثابت ہے۔
  • نماز میں رکوع کے بعد اللہ کی حمد بیان کی جاتی ہے۔
  • مختصر اذکار بھی نماز کے معنی کو گہرا بناتے ہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ کو یاد کر کے نماز میں پڑھنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں