سنن نسائی حدیث ۱۱۱۴ - سات اعضاء پر سجدہ
سات اعضاء پر سجدہ اور کپڑے نہ سمیٹنا
سنن نسائی : ۱۱۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۱۴
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَرَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں“۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۱۴ کا خلاصہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔ اس حدیث میں سجدے کا ایک بنیادی اصول بیان ہوا ہے۔ سجدہ چند اعضاء کے ساتھ ادا ہوتا ہے، اور نماز کے دوران بال یا کپڑے سمیٹنے کی عادت سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث میں سات اعضاء کی تفصیل اس متن میں نہیں آئی، اس لیے یہاں اسی بات تک رہنا چاہیے جو روایت میں موجود ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ سجدہ اللہ کے حکم کے مطابق ہو، اور نمازی اپنے کپڑوں یا بالوں کو ایسے نہ سمیٹے کہ سجدے کی فطری حالت بدل جائے۔ نماز میں سادگی، توجہ، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے انداز کی پیروی مطلوب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا حکم اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
- سجدے کی ہیئت کو حکم کے مطابق رکھنا چاہیے۔
