سنن نسائی حدیث ۱۱۱۷ - گرمی میں کپڑوں پر سجدہ
گرمی سے بچنے کے لیے کپڑوں پر سجدہ کرنے کی روایت
سنن نسائی : ۱۱۱۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۱۷
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ السُّلَمِيُّ ، قال : حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ " .
انس روایت:
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۱۷ کا خلاصہ
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔ اس حدیث میں ایک عملی صورت بیان ہوئی ہے: ظہر کا وقت، گرمی کی شدت، اور کپڑوں پر سجدہ کرنا۔ روایت میں حکم کے انداز میں لمبی بحث نہیں، بلکہ صحابہ کا عمل نقل ہوا ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز کے دوران پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زمین کی گرمی سجدے میں تکلیف دے، تو صحابہ اپنے کپڑوں پر سجدہ کر لیتے تھے۔ اس حدیث کا مرکز نماز میں آسانی اور گرمی سے بچنے کی عملی حالت ہے۔ اس میں یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ صحابہ نماز باجماعت ادا کرتے تھے اور گرمی کے باوجود نماز میں شریک رہتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شدید گرمی میں صحابہ کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔
- یہ عمل رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز کے وقت بیان ہوا ہے۔
- نماز میں حالت اور ضرورت کے مطابق آسانی کی صورت حدیث میں نظر آتی ہے۔
