سنن نسائی حدیث ۱۲۲۴ - تشہد رہ جائے تو دو سجدے

تشہد بھولنے پر سجدہ سہو کا طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۲۴

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ قَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ " .

عبداللہ بن بحینہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۲۴ کا خلاصہ

یہ روایت بھی عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ اس میں مختصر طور پر بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے، حالانکہ اس مقام پر بیٹھنا تھا۔ پھر آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق سجدہ سہو ہے۔ نماز میں کبھی انسان سے بھول ہو سکتی ہے، مگر سنت یہ سکھاتی ہے کہ غلطی کو کیسے درست کیا جائے۔ یہاں کوئی لمبی گفتگو نہیں، صرف عمل بتایا گیا ہے: بیٹھنا رہ گیا، نماز جاری رہی، آخر میں سلام سے پہلے دو سجدے کیے گئے۔ اسی لیے یہ حدیث تشہد بھولنے اور سجدہ سہو کے باب میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں بیٹھنے کی جگہ کھڑے ہو جانا بھول کی صورت ہو سکتی ہے۔
  • اس روایت میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کیا گیا ہے۔
  • سجدہ سہو بیٹھے بیٹھے کیا گیا۔
  • نماز کی اصلاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں