سنن نسائی حدیث ۱۲۲۵ - ذوالیدین اور سجدہ سہو
ذوالیدین والی حدیث اور سجدہ سہو
سنن نسائی : ۱۲۲۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۲۵
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ , قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَلَكِنِّي نَسِيتُ , قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ : بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ , فَقَالُوا : قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ , قَالَ : كَانَ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ , قَالَ : " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ " , قَالَ : وَقَالَ : " أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ " , قَالُوا : نَعَمْ , " فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي كَانَ تَرَكَهُ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا (کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم (بھی) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ”ذوالیدین“ (دو ہاتھوں والا) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے“، آپ نے (لوگوں سے) پوچھا: ”کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (ایسا ہی ہے) چنانچہ آپ (مصلے پر واپس آئے) اور وہ (دو رکعتیں) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مشہور واقعہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ کچھ لوگ جلدی سے نکل گئے اور کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے ادب کے ساتھ پوچھا کہ کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے، پھر لوگوں سے تصدیق لی۔ جب لوگوں نے کہا کہ ذوالیدین درست کہہ رہے ہیں تو آپ نے باقی رکعتیں پڑھائیں، سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ کر دو سجدے کیے۔ یہ حدیث نماز میں بھول، تصدیق اور سجدہ سہو کے بارے میں صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں کمی رہ جائے تو اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔
- دینی معاملے میں ادب کے ساتھ سوال کرنا درست ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے بات کی تصدیق لی۔
- اس واقعہ میں سجدہ سہو سلام کے بعد کیا گیا۔
