سنن نسائی حدیث ۱۲۲۶ - دو رکعت کے بعد نماز مکمل کرنا
دو رکعت رہ جائیں تو نماز کیسے پوری کی جائے
سنن نسائی : ۱۲۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۲۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " , فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر نماز ختم کر دی، تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے دو (رکعت مزید) پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا دوسرا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۲۶ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی ذوالیدین رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پر نماز ختم کر دی تو ذوالیدین نے پوچھا کہ کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ کھڑے ہوئے، دو رکعت مزید پڑھائیں، سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی اور اپنے سجدوں جیسا یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر دوسرا سجدہ بھی کیا۔ اس حدیث میں نماز میں بھول کی اصلاح کا عملی طریقہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ایک شخص کی بات پر لوگوں سے تصدیق لی گئی اور پھر نماز مکمل کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کی کمی معلوم ہو جائے تو اسے پورا کیا گیا۔
- بات کی تصدیق جماعت سے لی جا سکتی ہے۔
- سجدہ سہو عام سجدے جیسا یا اس سے لمبا بھی ہو سکتا ہے۔
- ذوالیدین نے سوال ادب کے ساتھ کیا۔
