سنن نسائی حدیث ۱۲۲۷ - عصر میں بھول اور سجدہ سہو
نماز عصر میں بھول ہو جائے تو کیا کیا جائے
سنن نسائی : ۱۲۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۲۷
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ , أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ , فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ , فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ , فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " , فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ , فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " , فَقَالُوا : نَعَمْ , فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ان دونوں میں سے) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے“، ذوالیدین نے کہا: اللہ کے رسول! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۲۷ کا خلاصہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعت پر سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ذوالیدین نے پھر عرض کیا کہ ان میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف توجہ کی اور پوچھا کہ کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے تصدیق کی۔ پھر آپ نے باقی نماز پوری کی اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز میں بھول کی خبر ملے تو اسے سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اگر نماز میں کمی رہ جائے تو تصدیق کے بعد باقی حصہ پورا کیا گیا۔
- سوال کرنے میں ادب اور سچائی دونوں ضروری ہیں۔
- اس روایت میں سجدہ سہو سلام کے بعد بیٹھ کر کیا گیا۔
- امام جماعت سے تصدیق لے سکتا ہے۔
