سنن نسائی حدیث ۱۲۲۸ - ظہر کی دو رکعت اور سجدہ سہو
ظہر کی رکعت کم رہ جائے تو سجدہ سہو
سنن نسائی : ۱۲۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۲۸
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ , فَقَالُوا : قُصِرَتِ الصَّلَاةُ , فَقَامَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، تو آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا۔ لوگوں نے کہا کہ نماز کم کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعت مزید پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے۔ یہ روایت مختصر ہے مگر سجدہ سہو کے باب میں بہت واضح ہے۔ اس میں سوال جواب کی تفصیل کم ہے، مگر اصل عمل صاف ہے: نماز کا جو حصہ رہ گیا تھا وہ پڑھایا گیا، پھر سجدہ سہو کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں رکعت کم رہ جانے کی صورت میں نماز کو مکمل کیا جاتا ہے، پھر بھول کی وجہ سے دو سجدے کیے جاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکعت کم رہ جائے تو باقی رکعت پوری کی گئی۔
- لوگوں کا بتانا نماز کی اصلاح کا سبب بنا۔
- اس روایت میں نماز مکمل کرنے کے بعد دو سجدے کیے گئے۔
- سجدہ سہو نماز کی بھول سے متعلق ایک عملی حکم ہے۔
