سنن نسائی حدیث ۱۲۳۶ - بھول پر سلام کے بعد سجدہ
بھول کی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو
سنن نسائی : ۱۲۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۳۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَجَدَ فِي وَهْمِهِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ (سہو) کیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۳۶ کا خلاصہ
ابن سیرین ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ کیا۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر سجدہ سہو کے وقت کو صاف بیان کرتی ہے۔ اس میں تفصیلی واقعہ نہیں، صرف عمل کا خلاصہ ہے کہ وہم یا بھول کی حالت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کیا گیا۔ اس حدیث سے عام قاری یہ سمجھتا ہے کہ نماز میں بھول کا معاملہ دین میں واضح رہنمائی کے ساتھ موجود ہے۔ متن میں یہی بات ہے کہ سلام کے بعد سجدہ ہوا، اس لیے اس سے زیادہ تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔ سجدہ سہو بعد السلام کے موضوع میں یہ حدیث خاص طور پر تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھول کی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث کا متن مختصر ہو تو وضاحت بھی محتاط ہونی چاہیے۔
- نماز کی بھول کو سنت کے مطابق درست کیا جاتا ہے۔
- ابن سیرین نے یہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی۔
