سنن نسائی حدیث ۱۲۳۷ - سہو پر دو سجدے پھر سلام
سہو ہو جائے تو دو سجدے پھر سلام
سنن نسائی : ۱۲۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۳۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
عمران بن حصین روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے (سہو کے) کیے، پھر سلام پھیرا۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۳۷ کا خلاصہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ اس حدیث کا بیان بہت مختصر ہے، لیکن اس میں سجدہ سہو کا بنیادی عمل موجود ہے۔ یہاں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ بھول کس چیز میں ہوئی تھی، اس لیے وضاحت کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سہو کے بعد دو سجدے کیے گئے اور پھر سلام پھیرا گیا۔ اس حدیث سے نماز میں بھول کی صورت میں سجدہ سہو کے عمل کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کبھی روایت صرف حکم کے خاص حصے کو بیان کرتی ہے، پوری تفصیل نہیں دیتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سہو ہو جائے تو دو سجدوں کا ذکر آیا ہے۔
- اس روایت میں دو سجدوں کے بعد سلام پھیرا گیا۔
- بھول کی نوعیت بیان نہیں، اس لیے اسی قدر بات کی جائے۔
- نماز کی اصلاح سنت کے طریقے سے ہوتی ہے۔
