حدیث ۱۲۳۸

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۳۸

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ , فَقَالَ : يَعْنِي نَقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ , فَقَالَ : " أَصَدَقَ " , قَالُوا : نَعَمْ , فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا ، ثُمَّ سَلَّمَ .

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور (جو چھوٹ گئی تھی) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے (چھوٹ جانے کے سبب) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں