سنن نسائی حدیث ۱۲۵۳ - نماز میں شیطانی وسوسہ

نماز میں شیطان وسوسہ ڈالے تو سجدہ سہو

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۵۳

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى , فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۵۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایسی حالت محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز میں شیطانی وسوسہ اور سجدہ سہو ہے۔ نماز میں دھیان بٹنا ایک بڑا مسئلہ ہے، اور یہ روایت بتاتی ہے کہ اگر رکعتوں کا شمار مشتبہ ہو جائے تو اس کا عملی حل موجود ہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ دو سجدے بیٹھے بیٹھے کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے نمازی کو یہ سبق ملتا ہے کہ وسوسے کی حالت میں بھی سنت کے مطابق نماز کی اصلاح کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شیطان نماز میں وسوسہ ڈال کر رکعتوں کا شمار گڈمڈ کر سکتا ہے۔
  • ایسی حالت میں بیٹھے بیٹھے دو سجدہ سہو کیے جائیں۔
  • نماز میں دھیان رکھنا ضروری ہے۔
  • وسوسے کے بعد بھی نماز کی اصلاح کا طریقہ موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں