سنن نسائی حدیث ۱۲۵۴ - اذان کے بعد شیطانی وسوسہ
اذان، اقامت اور نماز میں وسوسے کا علاج
سنن نسائی : ۱۲۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۵۴
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ , فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے۔ پھر جب اقامت ہو جاتی ہے تو وہ واپس آتا ہے اور آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ نمازی کو معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی۔ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کرنے کی ہدایت دی۔ اس روایت میں اذان، اقامت، شیطانی وسوسہ، نماز میں شک اور سجدہ سہو ایک ساتھ ذکر ہوئے ہیں۔ متن کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز میں رکعتوں کے بارے میں شک پیدا ہو جائے تو اس کا حل موجود ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ نماز کے دوران دھیان رکھے، لیکن اگر وسوسہ غالب آ جائے اور شمار مشتبہ ہو جائے تو دو سجدہ سہو کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان اور اقامت کا شیطان پر اثر اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- شیطان نماز میں وسوسہ ڈال کر دھیان بٹا سکتا ہے۔
- رکعتوں کا شمار مشتبہ ہو جائے تو دو سجدہ سہو کیے جائیں۔
- نمازی کو وسوسے کے باوجود سنت کے حکم پر عمل کرنا چاہیے۔
