سنن نسائی حدیث ۱۳۳۸ - نماز کے بعد تین بار استغفار
نماز کے بعد استغفار اور اللهم أنت السلام
سنن نسائی : ۱۳۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۳۸
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ , أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا , وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ , تَبَارَكْتُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
ثوبان روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۳۸ کا خلاصہ
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار استغفر اللہ کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام۔ اس کا مطلب ہے کہ اے اللہ، تو سلام ہے، سلامتی تجھی سے ہے، تیری ذات بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے۔ اس حدیث میں نماز کے بعد استغفار اور دعا دونوں کا ذکر ہے۔ نماز کے بعد استغفار کی حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عبادت کے بعد بھی بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہاں اصل عمل تین بار استغفار اور پھر یہ دعا ہے۔ اسے روزمرہ نماز کے بعد آسانی سے یاد کیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد تین بار استغفر اللہ کہنا اس روایت میں آیا ہے۔
- استغفار کے بعد اللهم أنت السلام پڑھنے کا ذکر ہے۔
- نماز کے بعد اللہ سے سلامتی کی نسبت بیان کی گئی ہے۔
- عبادت کے بعد بھی بندہ اللہ سے مغفرت مانگتا ہے۔
