سنن نسائی حدیث ۱۳۳۹ - سلام کے بعد اللهم أنت السلام

سلام کے بعد اللهم أنت السلام پڑھنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۳۹

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ , عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا سَلَّمَ , قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ , تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «‏اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام‏» ”اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھی سے تمام کی سلامتی ہے، اے عزت و بزرگی والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۳۳۹ کا خلاصہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب سلام پھیرتے تو یہ دعا کہتے: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ کو سلام کہا گیا اور سلامتی کو اسی کی طرف منسوب کیا گیا۔ پھر اللہ کی برکت، بزرگی اور عزت کا ذکر ہے۔ یہ حدیث نماز کے بعد کی دعا کے بارے میں مختصر مگر بہت واضح ہے۔ نماز کے بعد اللهم أنت السلام کی حدیث عام مسلمانوں میں بہت معروف ہے، اور اس روایت میں اسے سلام کے فوراً بعد پڑھنے کا ذکر ہے۔ یہاں صرف اسی دعا کا بیان ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی پر رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سلام کے بعد اللهم أنت السلام پڑھنے کا ذکر ہے۔
  • دعا میں اللہ سے سلامتی کی نسبت بیان ہوئی ہے۔
  • اللہ کی بزرگی اور عزت کا ذکر نماز کے بعد کیا گیا۔
  • نماز کے بعد مختصر دعا بھی سنت سے ثابت عمل ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں