سنن نسائی حدیث ۱۳۴۰ - نماز کے بعد لا إله إلا اللہ
نماز کے بعد لا إله إلا اللہ پڑھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۳۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۴۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ , يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ , أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " .
ابوالزبیر روایت:
میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۴۰ کا خلاصہ
ابوالزبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو منبر پر یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب سلام پھیرتے تو لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له سے شروع ہونے والے کلمات پڑھتے۔ ان کلمات میں اللہ کی توحید، اس کی بادشاہت، حمد، قدرت، اور یہ بات بیان ہے کہ طاقت و قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، نعمت، فضل اور اچھی تعریف اسی کے لیے ہے، اور دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہیں اگرچہ کافروں کو برا لگے۔ نماز کے بعد تہلیل کی حدیث توحید اور اخلاص کو نماز کے بعد کے ذکر سے جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد لا إله إلا اللہ کے کلمات پڑھنے کا ذکر ہے۔
- اس ذکر میں اللہ کی توحید اور قدرت بیان ہوئی ہے۔
- عبادت صرف اللہ کے لیے ہونے کا اقرار کیا گیا۔
- دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا مضمون اس ذکر میں ہے۔
