سنن نسائی حدیث ۱۴۰۳ - جمعہ کے خطبہ کا ادب

جمعہ کے خطبہ میں بات کرنے کی ممانعت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۰۳

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قال : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ , فَقَدْ لَغَوْتَ " .

ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو: ”خاموش رہو“ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا“۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۰۳ کا خلاصہ

اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جب تم جمعہ کے دن اپنے ساتھ والے سے کہو کہ خاموش رہو، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، تو تم نے لغو کام کیا۔ اس حدیث میں جمعہ کے خطبہ کی خاموشی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ عام حالات میں کسی کو خاموش کرانا اچھا لگ سکتا ہے، مگر خطبہ کے دوران اصل ادب یہ ہے کہ خود بھی خاموش رہیں اور امام کی بات سنیں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جمعہ کا خطبہ صرف رسمی بات نہیں بلکہ اسے دھیان سے سننا چاہیے۔ زبان کو روکنا بھی عبادت کے ادب میں شامل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خطبہ جمعہ کے وقت اپنی زبان کو غیر ضروری بات سے روکنا چاہیے۔
  • دوسرے کو خاموش کرانے کے لیے بولنا بھی اس وقت درست نہیں۔
  • امام کا خطبہ توجہ سے سننا جمعہ کے اہم آداب میں سے ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں