سنن نسائی حدیث ۱۴۰۲ - خطبہ جمعہ میں خاموشی
خطبہ جمعہ میں خاموشی کی حدیث
سنن نسائی : ۱۴۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۰۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: ”خاموش رہو“ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی“۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث جمعہ کے خطبہ کے ادب کو بہت صاف انداز میں بتاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو اور کوئی شخص اپنے ساتھی سے خاموش رہو کہے تو اس نے لغو حرکت کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ کے وقت سننا اصل کام ہے، بات کرنا نہیں۔ یہاں تک کہ بظاہر اچھی بات، جیسے کسی کو خاموش کرانا، بھی اس وقت مناسب نہیں رہتی۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ سنجیدگی، توجہ اور خاموشی کے ساتھ سنا جائے۔ جمعہ کے آداب میں زبان کو روکنا اور امام کی بات سننا بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطبہ جمعہ کے دوران خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔
- امام خطبہ دے رہا ہو تو دوسروں سے بات نہیں کرنی چاہیے۔
- بظاہر اچھی بات بھی غلط وقت پر لغو بن سکتی ہے۔
