سنن نسائی حدیث ۱۴۰۴ - جمعہ کی پاکی اور خاموشی
جمعہ کی پاکی اور خاموشی کی فضیلت
سنن نسائی : ۱۴۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۰۴
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قال : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ " .
سلمان روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کر لے، تو (اس کا یہ عمل) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جمعہ کے دن کے چند صاف آداب بیان ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی حکم کے مطابق پاکی حاصل کرے، گھر سے نکل کر جمعہ کے لیے آئے، پھر خاموش رہے یہاں تک کہ اپنی نماز ختم کر لے، تو یہ عمل پچھلے جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا۔ یہاں جمعہ کی فضیلت کے ساتھ پاکی اور خاموشی دونوں کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جمعہ صرف مسجد جانے کا نام نہیں، بلکہ تیاری، ادب اور توجہ کا دن ہے۔ خطبہ جمعہ میں خاموشی، نماز کی تکمیل اور پاکی کا اہتمام اس حدیث کے اصل نکات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے لیے پاکی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- مسجد آ کر خطبہ اور نماز کے دوران خاموش رہنا چاہیے۔
- جمعہ کے آداب کے ساتھ ادا کیا گیا عمل گناہوں کے کفارے کا سبب بنتا ہے۔
