سنن نسائی حدیث ۱۴۰۷ - غسل جمعہ سنت ہے

غسل جمعہ سنت ہے: حدیث کا آسان مفہوم

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۰۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ : سُنَّةٌ , وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ " .

ابراہیم بن نشیط روایت:

´ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۰۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ابراہیم بن نشیط نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں سوال کیا۔ ابن شہاب نے جواب دیا کہ یہ سنت ہے، اور بتایا کہ سالم بن عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منبر پر بیان کیا۔ اس حدیث میں جمعہ کے غسل کے بارے میں سوال اور جواب کا انداز ملتا ہے۔ بات مختصر ہے، مگر مطلب واضح ہے کہ جمعہ کے لیے غسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے طور پر بیان ہوا۔ جمعہ کا غسل، جمعہ کے آداب اور پاکیزگی کی تیاری کے ساتھ جڑا ہوا عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جمعہ کے دن غسل کو سنت کے طور پر بیان کیا گیا۔
  • دینی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اہل علم سے سوال کیا جا سکتا ہے۔
  • نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے جمعہ کے غسل کا ذکر منبر پر فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں