سنن نسائی حدیث ۱۴۶۸ - آٹھ رکوع
نماز کسوف میں آٹھ رکوع: ابن عباسؓ کی روایت
سنن نسائی : ۱۴۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۶۸
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " , وَعَنْ عَطَاءٍ مِثْلُ ذَلِكَ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن لگنے پر آٹھ رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور عطاء نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر ایسی نماز پڑھی جس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے تھے۔ عطاء نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا۔ یہاں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ گرہن کے وقت نماز پڑھی گئی اور اس نماز میں رکوع زیادہ تھے۔ اس روایت میں تفصیل مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔ نماز کسوف کے بارے میں مختلف روایات میں رکوع کی تعداد کے بیان ملتے ہیں، اور یہ روایت انہی میں سے ایک ہے۔ قاری کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ گرہن دیکھ کر اللہ کی طرف نماز کے ذریعے رجوع کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں سورج گرہن کی نماز کا ذکر ہے۔
- ابن عباسؓ کے بیان میں آٹھ رکوع اور چار سجدے آئے ہیں۔
- گرہن کے وقت نماز ادا کرنا نبوی عمل ہے۔
- حدیث کو اسی مختصر متن کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
