سنن نسائی حدیث ۱۴۷۸ - صفہ زمزم
صفہ زمزم پر نماز کسوف: چار رکوع چار سجدے
سنن نسائی : ۱۴۷۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۷۸
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۷۸ کا خلاصہ
اس مختصر روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز صفہ زمزم میں ادا فرمائی۔ اس نماز میں چار رکوع اور چار سجدے کیے گئے۔ حدیث بہت مختصر ہے، اس لیے اس میں وہی بات نمایاں رہنی چاہیے جو متن میں آئی ہے: نماز کسوف، صفہ زمزم کا مقام، اور چار رکوع و چار سجدے۔ اس روایت سے نماز کی اصل طرف توجہ ملتی ہے، یعنی گرہن کے وقت نماز ادا کی گئی۔ جگہ کا ذکر بھی آیا ہے، مگر حکم کی اصل روح یہ ہے کہ بندہ اللہ کی نشانی دیکھ کر عبادت کی طرف آئے۔ نماز کسوف کو سنجیدگی، خشوع اور توجہ کے ساتھ ادا کرنا اس متن سے سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں صفہ زمزم کا ذکر آیا ہے۔
- نماز کسوف میں چار رکوع اور چار سجدے بیان ہوئے ہیں۔
- حدیث مختصر ہے اور نماز کے مقام و کیفیت کو بتاتی ہے۔
- گرہن کے وقت اصل عمل نماز ادا کرنا ہے۔
