سنن نسائی حدیث ۱۴۷۹ - لمبا قیام

سخت گرمی میں نماز کسوف: لمبا قیام اور اللہ کی نشانی

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۷۹

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ ، وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , كَانُوا يَقُولُونَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهِمْ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا , فَإِذَا انْخَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ (بیہوش ہو ہو کر) گرنے لگے، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سورج گرہن کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ دن بہت گرم تھا، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ قیام اتنا لمبا ہوا کہ لوگ گرنے لگے، پھر لمبا رکوع، دوبارہ قیام، پھر رکوع، پھر سجدے، اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ روایت میں آپ کے آگے بڑھنے اور پھر پیچھے ہٹنے کا ذکر بھی ہے۔ آخر میں بتایا گیا کہ لوگ کہتے تھے سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت سے گرہن زدہ ہوتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جب گرہن لگے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت گرمی کے باوجود نبی صلى الله عليه وسلم نے لمبی نماز کسوف پڑھائی۔
  • گرہن کو کسی بڑے آدمی کی موت سے جوڑنے کی سوچ رد کی گئی۔
  • سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔
  • گرہن صاف ہونے تک نماز کی طرف متوجہ رہنے کا حکم آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں