سنن نسائی حدیث ۱۴۹۶ - سورج گرہن کی نماز میں آواز نہ سنائی دی

نماز کسوف میں آواز نہ سنائی دینے والی روایت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۹۶

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّادٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْقَيْسِ ، عَنْ سَمُرَةَ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا " .

سمرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی (وہ کہتے ہیں) کہ ہم آپ کی آواز نہیں سن رہے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۹۶ کا خلاصہ

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی، اور راوی کہتے ہیں کہ ہم آپ کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر نماز کسوف کے بیان میں ایک الگ پہلو دکھاتی ہے۔ اس میں نہ خطبے کی تفصیل ہے، نہ رکوع و سجدہ کی مکمل ترتیب؛ صرف یہ بات بیان ہوئی کہ نماز ادا کی گئی اور لوگوں کو آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس طرح کی روایات نماز کسوف کے مختلف پہلوؤں کو محفوظ کرتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سورج گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا اہتمام کیا۔ مسلمان کے لیے ایسے وقت میں بحث یا قیاس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور نماز کو اہم سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورج گرہن کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
  • اس روایت میں آواز نہ سنائی دینے کا ذکر ہے۔
  • نماز کسوف کے مختلف پہلو الگ الگ روایات میں آئے ہیں۔
  • گرہن کے وقت اصل توجہ نماز اور اللہ کی طرف رجوع پر ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں