سنن نسائی حدیث ۱۵۱۲ - استسقاء میں قبلہ رخ ہو کر چادر پلٹنا
استسقاء میں قبلہ رخ دعا اور چادر پلٹنا
سنن نسائی : ۱۵۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۱۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .
عبداللہ بن زید روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جائے نماز کی طرف) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۱۲ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جگہ نماز کی طرف نکلے، استسقاء کی نماز پڑھی، اور جب قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر پلٹی۔ حدیث کا خاص نکتہ وقت اور حالت کا بیان ہے: چادر پلٹنے کا عمل اس وقت ہوا جب آپ صلى الله عليه وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس روایت میں رکعات یا قرات کی تفصیل زیادہ نہیں دی گئی، اس لیے اصل توجہ قبلہ رخ ہونے اور چادر پلٹنے پر ہے۔ استسقاء کا مقصد اللہ سے بارش مانگنا ہے، اور یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل دعا کی سنجیدگی اور عاجزی کو دکھاتا ہے۔ نماز استسقاء، قبلہ رخ دعا اور چادر پلٹنے کی حدیث کے لیے یہ روایت بہت متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استسقاء میں قبلہ رخ ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- چادر پلٹنے کا عمل قبلہ رخ ہونے کے وقت بیان ہوا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے استسقاء کی نماز ادا فرمائی۔
- حدیث سے دعا کے آداب کا مختصر پہلو معلوم ہوتا ہے۔
