سنن نسائی حدیث ۱۵۱۴ - استسقاء میں ہاتھ بلند کر کے دعا
استسقاء میں ہاتھ بلند کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۵۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۱۴
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے دعا کے انداز کا ایک خاص پہلو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کسی دعا میں اپنے دونوں ہاتھ اس طرح نہیں اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے۔ استسقاء میں آپ اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ اس روایت کا موضوع بارش کی دعا میں ہاتھ اٹھانا ہے۔ یہاں دعا کے الفاظ یا نماز کی رکعات کا ذکر نہیں، بلکہ ہاتھوں کے بلند کرنے کی کیفیت آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استسقاء کا موقع اللہ کے سامنے بہت عاجزی اور طلب کا موقع تھا۔ بارش کی دعا، استسقاء کی دعا اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کی حدیث کے لیے یہ روایت بہت معروف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں استسقاء کے وقت ہاتھ زیادہ بلند کرنے کا ذکر ہے۔
- انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے دعا کے انداز کو بیان کیا۔
- حدیث صرف ہاتھ اٹھانے کی کیفیت پر بات کرتی ہے۔
- بارش کی دعا میں عاجزی کا انداز نمایاں ہے۔
