سنن نسائی حدیث ۱۶۰۹ - رات بھر سونے کی تنبیہ
رات بھر سونا اور نماز سے غفلت کی حدیث
سنن نسائی : ۱۶۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۰۹
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ , قَالَ : " ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک آدمی کا ذکر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے کیا گیا جو پوری رات سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔ یہ الفاظ بہت سخت ہیں اور نماز سے غفلت کی سنگینی بتاتے ہیں۔ حدیث کا مقصد آدمی کو نیند سے نفرت دلانا نہیں، کیونکہ نیند بھی ضرورت ہے، بلکہ ایسی غفلت سے بچانا ہے جس میں انسان رات کی نماز یا وقت کی عبادت سے بالکل بے خبر رہے۔ خاص طور پر جب نماز کا وقت نکل جائے تو یہ بہت خطرے کی بات ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تہجد اور رات کی عبادت کی قدر کرنی چاہیے، اور کم از کم فرض نماز کے وقت بیدار ہونے کی فکر رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات بھر غفلت میں پڑے رہنا قابل تنبیہ عمل ہے۔
- حدیث میں شیطان کے اثر کو سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
- نیند کے باوجود نماز کے وقت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- رات کی عبادت سے محرومی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
