سنن نسائی حدیث ۱۶۱۰ - نماز سے سو جانے پر تنبیہ

نماز سے سو جانے کی حدیث: شیطان کی سخت مثال

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۱۰

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا , قال : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فُلَانًا نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ الْبَارِحَةَ حَتَّى أَصْبَحَ , قَالَ : " ذَاكَ شَيْطَانٌ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کل کی رات نماز سے سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: ”اس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۱۰ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلے مضمون کو ایک اور انداز سے بیان کرتی ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ فلاں آدمی کل رات نماز سے سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے۔ یہاں بات صرف ایک عام نیند کی نہیں، بلکہ نماز سے غفلت کی ہے۔ حدیث میں کانوں کا ذکر اس لیے بھی سمجھ آتا ہے کہ آدمی بیدار کرنے والی آواز، نصیحت یا نماز کی پکار سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ ہمیں اس روایت سے ڈر کے ساتھ عملی سبق لینا چاہیے: سونے سے پہلے نیت درست ہو، نماز کے لیے جاگنے کا ارادہ ہو، اور ایسے اسباب اختیار کیے جائیں جن سے وقت پر بیداری ممکن ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز سے غفلت پر حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
  • رات کی نیند عبادت سے مکمل بے پرواہی کا سبب نہ بنے۔
  • بیداری کے لیے نیت اور عملی اسباب دونوں اختیار کرنے چاہییں۔
  • حدیث ہمیں سستی اور لاپرواہی سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں