سنن نسائی حدیث ۱۶۱۳ - رات کی نماز کے لیے دوبارہ بیدار کرنا

تہجد کے لیے گھر والوں کو دوبارہ جگانے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۱۳

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَمِّي ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قال : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا ، فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا , فَقَالَ : " قُومَا فَصَلِّيَا " , قَالَ : فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ : إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا , قَالَ : فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ : " مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 " .

علی بن ابی طالب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں میرے اور فاطمہ کے پاس آئے، اور آپ نے ہمیں نماز کے لیے بیدار کیا، پھر آپ اپنے گھر لوٹ گئے، اور جا کر دیر رات تک نماز پڑھتے رہے، جب آپ نے ہماری کوئی آہٹ نہیں سنی تو آپ دوبارہ ہمارے پاس آئے، اور ہمیں بیدار کیا، اور فرمایا: ”تم دونوں اٹھو، اور نماز پڑھو“، تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا، میں اپنی آنکھ مل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”قسم اللہ کی، ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اگر وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تو بیدار کر دے گا“ تو یہ سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹھ پھیر کر جانے لگے، آپ اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: ”ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، انسان بہت ہی حجتی ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۱۳ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رات میں علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہیں نماز کے لیے جگایا، پھر اپنے گھر واپس جا کر دیر تک نماز پڑھتے رہے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کی کوئی آہٹ نہ سنی تو دوبارہ آئے اور فرمایا: تم دونوں اٹھو اور نماز پڑھو۔ علی رضی اللہ عنہ نے نیند کی حالت میں کہا کہ ہم وہی پڑھیں گے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے یہ جواب سن کر آیت پڑھی کہ انسان بہت حجتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ رات کی نماز کے لیے کوشش کی جائے، نیند سے لڑنے کی نیت ہو، اور تقدیر کو سستی کا بہانہ نہ بنایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے رات کی نماز کے لیے دوبارہ یاد دہانی کرائی۔
  • عبادت میں کوشش کرنا بندے کے ذمہ ہے۔
  • نیند کے وقت بھی نماز کی قدر یاد رکھی جائے۔
  • تقدیر کا ذکر سستی کے جواز کے طور پر نہ کیا جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں