سنن نسائی حدیث ۱۶۱۲ - اہلِ گھر کو نماز کے لیے جگانا
اہلِ گھر کو تہجد کے لیے جگانے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۶۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۱۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ , فَقَالَ : " أَلَا تُصَلُّونَ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا , فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَيَقُولُ : وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 .
علی بن ابی طالب روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو (دروازہ کھٹکھٹا کر) بیدار کیا، اور فرمایا: ”کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟“ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر (ہاتھ) مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» ”انسان بہت حجتی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا اپنے اہلِ بیت کے لیے خیر چاہنا صاف نظر آتا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم رات کو علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ نبی صلى الله عليه وسلم یہ جواب سن کر واپس ہو گئے، مگر جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار کر سورۃ الکہف کی آیت پڑھی کہ انسان بہت جھگڑالو ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان اپنی جگہ ہے، مگر عبادت کے لیے کوشش، بیداری اور ارادہ بھی مطلوب ہے۔ رات کی نماز کے معاملے میں اہلِ گھر کو یاد دلانا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھر والوں کو رات کی نماز کے لیے بیدار کیا۔
- تقدیر کا حوالہ دے کر کوشش چھوڑ دینا درست رویہ نہیں بنتا۔
- حدیث میں انسان کے بحث کرنے کی عادت پر تنبیہ ہے۔
- اہلِ گھر کو نیکی کی یاد دہانی کی جا سکتی ہے۔
