سنن نسائی حدیث ۱۶۱۷ - محبوب عمل وہ ہے جو جاری رہے

محبوب عمل کی حدیث: کم مگر پابندی سے

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۱۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قال : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : الدَّائِمُ , قُلْتُ : فَأَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ ؟ قَالَتْ : إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ " .

مسروق روایت:

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسروق رحمہ اللہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب تھا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ عمل جو دائمی ہو، یعنی جس پر پابندی ہو۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم رات میں کب اٹھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب مرغ کی بانگ سنتے۔ اس روایت سے ایک بہت عملی سبق ملتا ہے کہ عبادت میں صرف جوش کافی نہیں، پابندی زیادہ پسندیدہ ہے۔ آدمی اگر کم نفل پڑھے مگر مسلسل پڑھے تو یہ اس کے لیے بہتر عادت بن سکتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی رات کی بیداری کا ذکر بھی آیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم ایک خاص وقت پر اٹھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تہجد اور قیام اللیل کے لیے مستقل معمول بنانا فائدہ مند ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کو وہ عمل محبوب تھا جس پر پابندی ہو۔
  • عبادت میں مستقل مزاجی وقتی جوش سے بہتر ہے۔
  • رات کی نماز کے لیے اپنا معمول بنایا جا سکتا ہے۔
  • کم عمل بھی اگر جاری رہے تو قیمتی بن جاتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں