سنن نسائی حدیث ۱۶۲۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کا رات کا معمول
نبی صلى الله عليه وسلم کا قیام اللیل اور مسواک کا معمول
سنن نسائی : ۱۶۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۲۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قال : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ لَأَرْقُبَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةٍ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ ، " فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ , فَقَالَ : " رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا حَتَّى بَلَغَ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ سورة آل عمران آية 191 - 194 " , ثُمَّ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فِرَاشِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا ، ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءً فَاسْتَنَّ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى قُلْتُ قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى , قُلْتُ : قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ , وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ آپ کے عمل کو دیکھ لوں، تو جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، اور یہی عتمہ تھی، تو بڑی رات تک سوئے رہے، پھر آپ بیدار ہوئے تو افق کی جانب نگاہ اٹھائی، اور فرمایا: «ربنا ما خلقت هذا باطلا» ”اے ہمارے رب! تو نے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ہے“ (آل عمران: ۱۹۱) یہاں تک کہ آپ «إنك لا تخلف الميعاد» ”بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا“ (آل عمران: ۱۹۴) تک پہنچے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف جھکے، اور آپ نے اس میں سے ایک مسواک نکالی، پھر ڈول سے جو آپ کے پاس تھا ایک پیالے میں پانی انڈیلا، اور مسواک کی، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ جتنی دیر تک سوئے تھے اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز پڑھی ہے، پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ اتنی ہی دیر تک سوئے ہیں جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اور اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین مرتبہ (اسی طرح) کیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک صحابی سفر کے دوران نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے رات کے عمل کو دیکھتے ہیں۔ عشاء کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم کچھ دیر سوئے، پھر بیدار ہوئے، آسمان کی طرف دیکھا اور سورہ آل عمران کی آیات پڑھیں: ربنا ما خلقت هذا باطلا سے إنك لا تخلف الميعاد تک۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بستر سے مسواک نکالی، پانی لیا، مسواک کی، کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ پھر آرام کیا، پھر دوبارہ اسی طرح بیدار ہوئے۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ فجر سے پہلے آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ عمل تین مرتبہ کیا۔ اس سے قیام اللیل، قرآن کی تلاوت، مسواک اور نماز کا خوبصورت ترتیب والا معمول معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم رات میں بیدار ہو کر آیات پڑھتے اور اللہ کو یاد کرتے تھے۔
- قیام اللیل سے پہلے مسواک کرنا آپ صلى الله عليه وسلم کے عمل میں شامل تھا۔
- رات کی عبادت میں نماز اور آرام دونوں کا توازن نظر آتا ہے۔
- آسمان و زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
