سنن نسائی حدیث ۱۶۲۸ - نماز اور نیند میں توازن
رات کی نماز اور نیند کا نبوی توازن
سنن نسائی : ۱۶۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۲۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ، قال : أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ مُصَلِّيًا , إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ " .
انس روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز (تہجد) پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے، اور آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۲۸ کا خلاصہ
انس رضی اللہ عنہ اس حدیث میں ایک مختصر مگر اہم بات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے، اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو بھی دیکھ لیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم رات میں عبادت بھی کرتے تھے اور آرام بھی فرماتے تھے۔ حدیث کا اصل پیغام رات کی نماز اور نیند میں توازن ہے۔ یہ بات خاص طور پر قیام اللیل کے بارے میں بہت نرم رہنمائی دیتی ہے کہ عبادت کے ساتھ جسم کے حق کا بھی خیال رکھا جائے۔ متن میں یہی بات ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی رات صرف ایک ہی حالت پر نہیں گزرتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم رات میں نماز بھی پڑھتے اور آرام بھی فرماتے تھے۔
- قیام اللیل کے ساتھ نیند کا توازن بھی موجود تھا۔
- عبادت میں ایسا طریقہ بہتر ہے جس میں جسم پر بے جا بوجھ نہ ہو۔
- صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو دیکھ کر دین سیکھتے تھے۔
