صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۱ - تہجد اور نفل روزوں میں اعتدال
تہجد کی نماز اور نفل روزوں میں نبی صلى الله عليه وسلم کا خوبصورت معمول
صحیح بخاری : ۱۱۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَكَانَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ " تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں روزہ نہ رکھتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے اور اگر کسی مہینہ میں روزہ رکھنا شروع کرتے تو خیال ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مہینہ کا ایک دن بھی بغیر روزہ کے نہیں رہ جائے گا اور رات کو نماز تو ایسی پڑھتے تھے کہ تم جب چاہتے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جب چاہتے سوتا دیکھ لیتے۔ محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان اور ابوخالد نے بھی حمید سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تہجد کی نماز، نفل روزہ اور عبادت میں توازن ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کسی مہینے میں روزہ نہ رکھتے تو دیکھنے والے کو لگتا کہ شاید اب اس مہینے روزہ نہیں رکھیں گے، اور جب روزہ رکھتے تو خیال ہوتا کہ شاید اب کوئی دن بغیر روزے کے نہیں رہے گا۔ اسی طرح رات کی نماز کا حال بھی بہت متوازن تھا؛ جب کوئی آپ صلى الله عليه وسلم کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا، اور جب سوتا دیکھنا چاہتا تو وہ بھی دیکھ لیتا۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ تہجد کی نماز ایک محبوب عمل ہے، مگر اس کے ساتھ آرام اور جسمانی طاقت کا خیال بھی رکھا گیا۔ نفل عبادت میں پابندی اچھی ہے، لیکن اپنے حال کے مطابق توازن بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل روزے کبھی رکھنا اور کبھی چھوڑنا بھی سنت کے بیان کردہ معمول میں آتا ہے۔
- تہجد کی نماز اہم ہے، مگر رات میں آرام کا حصہ بھی موجود تھا۔
- عبادت میں ایسا انداز بہتر ہے جو انسان کے حال اور طاقت کے مطابق ہو۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہمیں نماز، روزہ اور آرام کے درمیان توازن سکھاتا ہے۔
