سنن نسائی حدیث ۱۶۴۸ - کھڑے یا بیٹھے نماز

نفل نماز کھڑے اور بیٹھ کر پڑھنے کا طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۸

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا ، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۴۸ کا خلاصہ

عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں نماز کے دو انداز بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ جب آپ نماز کھڑے ہو کر شروع کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو رکوع بھی بیٹھے بیٹھے کرتے۔ یہ حدیث بیٹھ کر نماز کے طریقے کو سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ اس میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ نفل نماز میں آسانی ہے، خاص طور پر جب انسان رات کی نماز لمبی پڑھ رہا ہو یا جسمانی حالت بیٹھنے کا تقاضا کرے۔ روایت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل منظم تھا، ہر حالت میں نماز کا انداز اسی کے مطابق رکھا جاتا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفل نماز کھڑے ہو کر بھی پڑھی جا سکتی ہے اور بیٹھ کر بھی۔
  • نماز جس حالت میں شروع ہو، رکوع بھی اسی کے مطابق کیا گیا۔
  • بیٹھ کر نماز کا طریقہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • عبادت میں آسانی اور ترتیب دونوں موجود ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں