سنن نسائی حدیث ۱۶۴۷ - بیٹھ کر نماز کا طریقہ
بیٹھ کر نماز پڑھنے کا نبوی طریقہ
سنن نسائی : ۱۶۴۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۷
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ , وَأَيُّوبُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے ہی رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ اس روایت میں بیٹھ کر نماز، قیام اللیل اور رکوع کے طریقے کا صاف بیان ہے۔ یہاں خاص طور پر نفل نماز کا انداز سامنے آتا ہے، کیونکہ روایت رات کی طویل نماز کے بارے میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت جس طرح شروع کی جائے، رکوع بھی اسی حالت کے مطابق ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو بیٹھ کر نفل نماز کے طریقے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر بھی پڑھی گئی۔
- کھڑے ہو کر نماز شروع کی جائے تو رکوع کھڑے ہو کر کیا گیا۔
- بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں رکوع بھی بیٹھ کر کیا گیا۔
- نفل نماز میں حالت کے مطابق آسانی موجود ہے۔
