سنن نسائی حدیث ۱۶۴۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کی طویل نماز

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نماز اور عبادت کی محنت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۶

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ وَكَانَ ثِقَةً ، قال : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَزْلَعَ يَعْنِي تَشَقَّقُ قَدَمَاهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۴۶ کا خلاصہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی محنت کو بہت مختصر مگر اثر انگیز انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں قیام اللیل اور نفل نماز کی طرف دل کو رغبت ملتی ہے، مگر ساتھ ہی پچھلی احادیث کی روشنی میں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق عبادت کرے۔ اس حدیث کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور کس قدر عاجزی اور شکر کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ ہمیں اس سے نماز کی قدر، خشوع اور شکر کا جذبہ سیکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم عبادت میں بہت محنت فرماتے تھے۔
  • طویل نماز کا جذبہ شکر اور بندگی سے جڑا ہوا ہے۔
  • عام آدمی کو اپنی طاقت کے مطابق نفل عبادت کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں