سنن نسائی حدیث ۱۶۴۵ - شکر گزار بندہ

کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۵

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قال : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ , يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ , فَقِيلَ لَهُ : قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ , قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .

مغیرہ بن شعبہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں (پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں) تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج جاتے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ حدیث عبادت اور شکر کا بڑا پیارا تعلق بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز صرف مغفرت کے لیے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات پر شکر کے طور پر بھی تھی۔ اس میں قیام اللیل، نفل نماز اور شکر گزاری کا ایسا سبق ہے جو دل کو عمل کی طرف مائل کرتا ہے، مگر یہ بھی یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت اور مقام عام لوگوں جیسا نہیں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عبادت اللہ تعالیٰ کے شکر کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے عمل سے شکر گزاری کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔
  • نعمت ملنے کے بعد بندے کو اللہ کی طرف اور زیادہ متوجہ ہونا چاہیے۔
  • لمبی نماز کا ذکر یہاں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے خاص عمل کے طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں