سنن نسائی حدیث ۱۶۴۴ - تھکن میں نماز کا حکم
نماز میں دل لگے تو کھڑے رہو، تھک جاؤ تو بیٹھ جاؤ
سنن نسائی : ۱۶۴۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۴
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ , فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " , فَقَالُوا : لِزَيْنَبَ تُصَلِّي , فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے دو ستونوں کے درمیان میں ایک لمبی رسی دیکھی، تو آپ نے پوچھا: ”یہ رسی کیسی ہے؟“ تو لوگوں نے عرض کیا: زینب (زینب بنت جحش) کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں، جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھولو اسے، تم میں سے کوئی بھی ہو جب تک اس کا دل لگے نماز پڑھے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی ایک لمبی رسی دیکھی۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لے لیتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھول دو، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک اس کا دل لگے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔ اس سے نفل نماز کا صاف اور آسان طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ عبادت میں محبت ضرور ہو، مگر ایسی سختی نہ ہو کہ انسان تھکن کے باوجود خود کو سہارا دے کر کھڑا رکھے۔ دین آسانی اور ہوش مندی کے ساتھ عمل سکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل نماز میں غیر ضروری مشقت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
- جب دل اور جسم میں نشاط ہو تو عبادت بہتر انداز سے ہوتی ہے۔
- تھکن کے وقت بیٹھ جانا نفل نماز میں آسانی کا حصہ ہے۔
- عبادت میں سہارا بنا کر خود کو حد سے زیادہ مشقت میں ڈالنا درست انداز نہیں۔
