سنن نسائی حدیث ۱۶۴۳ - تھوڑا مگر مسلسل عمل
پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے
سنن نسائی : ۱۶۴۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۳
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ , فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : فُلَانَةُ ، لَا تَنَامُ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا , فَقَالَ : " مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَلَكِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ " .
عائشہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ان کے پاس ایک عورت (بیٹھی ہوئی) تھی تو آپ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں (عورت) ہے جو سوتی نہیں ہے، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چپ رہو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو، قسم اللہ کی، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، پسندیدہ دین (عمل) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عورت کا ذکر ہے جو زیادہ نماز پڑھتی تھی اور سوتی نہیں تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی نماز کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چپ رہو، تم اتنا ہی عمل کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین وہ ہے جس پر عمل کرنے والا مداومت کرے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عبادت میں جوش کے ساتھ سمجھ داری بھی ہو۔ نفل نماز، تہجد اور دوسرے اچھے اعمال ایسے ہوں جنہیں انسان بار بار اور مستقل طور پر کر سکے۔ تھوڑا عمل بھی جب پابندی سے ہو تو دین میں مضبوطی پیدا کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت اپنی طاقت کے مطابق کرنی چاہیے۔
- ایسا عمل اختیار کرنا بہتر ہے جسے مسلسل کیا جا سکے۔
- بغیر آرام کے عبادت کرنا ہر شخص کے لیے مناسب نہیں۔
- دین میں پابندی اور توازن دونوں ضروری ہیں۔
