سنن نسائی حدیث ۱۶۶۸ - رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر
رات کی نماز دو دو رکعت اور آخر میں وتر
سنن نسائی : ۱۶۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۶۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قال : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مختصر اور صاف جواب دیا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ یہی اس روایت کا مرکزی پیغام ہے: نماز تہجد یا رات کی نفل نماز کو دو دو رکعت پڑھنا، اور آخر میں ایک رکعت کے ذریعے وتر کرنا۔ اس متن میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ سوال کے جواب میں عملی ترتیب دی گئی ہے۔ اس لیے “رات کی نماز دو دو رکعت” اور “وتر ایک رکعت” اس حدیث کے اہم تلاش الفاظ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جب کسی عبادت کا طریقہ جاننا چاہتے تھے تو براہ راست سوال کرتے، اور نبی صلى الله عليه وسلم انہیں آسان الفاظ میں جواب دیتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز کو دو دو رکعت پڑھنے کا طریقہ بیان ہوا ہے۔
- صبح کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت سے وتر کرنے کا ذکر ہے۔
- سوال کے جواب میں مختصر عملی طریقہ بتایا گیا۔
- حدیث میں رات کی نماز کی رکعتوں کی ترتیب پر بات ہے۔
