سنن نسائی حدیث ۱۶۷۲ - رات کی نماز اور ایک رکعت وتر
رات کی نماز کا مکمل مختصر طریقہ: دو دو رکعت، پھر وتر
سنن نسائی : ۱۶۷۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۷۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۷۲ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو۔ اس حدیث کا انداز بہت جامع ہے۔ پہلے رات کی نفل نماز کی ترتیب بتائی گئی، پھر وقت ختم ہونے کے قریب وتر کا طریقہ بتایا گیا۔ “صلاة اللیل مثنیٰ مثنیٰ” کا عام فہم مطلب یہی ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت پڑھی جائے۔ پھر “فأوتر بواحدة” بتاتا ہے کہ آخر میں ایک رکعت کے ذریعے وتر کیا جائے۔ اس حدیث سے متعلق تلاش کے الفاظ میں نماز تہجد، وتر ایک رکعت، اور رات کی نماز کا طریقہ شامل ہیں۔ متن میں اس سے زیادہ تفصیل نہیں، اس لیے کسی اضافی تعداد یا شرط کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز کے لیے دو دو رکعت کا طریقہ بیان ہوا۔
- صبح کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھنے کا ذکر ہے۔
- حدیث مختصر مگر عملی رہنمائی دیتی ہے۔
- متن میں اضافی رکعتوں کی کوئی خاص تعداد بیان نہیں ہوئی۔
