سنن نسائی حدیث ۱۶۷۱ - صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر
صبح کا خوف ہو تو ایک رکعت سے وتر کریں
سنن نسائی : ۱۶۷۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۷۱
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قال : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، قال : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , قَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِنْ خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے۔ اس روایت میں “اگر تم میں سے کوئی” کا انداز عام رہنمائی کا ہے، یعنی بات صرف سوال کرنے والے شخص تک محدود نہیں رہی۔ حدیث میں اصل توجہ رات کی نماز کا طریقہ اور وتر کا آخری حصہ ہے۔ “رات کی نماز کیسے پڑھیں”، “وتر کب پڑھیں”، اور “صبح کے قریب وتر” اس مضمون کے اہم تلاش کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ اس روایت سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ عبادت میں وقت کا خیال رکھا جاتا ہے؛ جب صبح کا اندیشہ ہو تو لمبی نماز جاری رکھنے کے بجائے ایک رکعت سے وتر کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز دو دو رکعت پڑھنے کی رہنمائی دی گئی۔
- صبح کا خوف ہو تو ایک رکعت وتر کا حکم نما جواب آیا۔
- حدیث میں خطاب عام انداز میں ہے: تم میں سے کوئی۔
- وقت کا اندیشہ ہو تو نماز کو وتر پر ختم کیا جائے۔
