سنن نسائی حدیث ۱۶۶۹ - صبح سے پہلے ایک رکعت وتر
صبح کے اندیشے پر ایک رکعت وتر کا طریقہ
سنن نسائی : ۱۶۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۶۹
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کر لو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ پھر جب صبح ہونے کا خطرہ محسوس ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر، یعنی نماز کو طاق کر لو۔ اس روایت میں “فأوتر بواحدة” کا مفہوم بہت واضح ہے: آخر میں ایک رکعت پڑھ کر رات کی نماز کو وتر بنایا جائے۔ یہاں اصل بات رات کی نماز کا طریقہ ہے، نہ کہ کسی لمبی بحث کا بیان۔ اس لیے “وتر کی ایک رکعت” اور “نماز تہجد کا طریقہ” اس حدیث کے مضبوط تلاش کے الفاظ ہیں۔ حدیث سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ رات کی نماز جوڑوں میں پڑھی جائے، اور وقت ختم ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت سے اسے ختم کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز دو دو رکعت بیان ہوئی ہے۔
- صبح کے قریب وقت کم ہو تو ایک رکعت وتر کا ذکر ہے۔
- وتر کا معنی یہاں نماز کو طاق کرنا ہے۔
- حدیث عبادت کے عملی طریقے کو مختصر الفاظ میں بتاتی ہے۔
