سنن نسائی حدیث ۱۶۷۷ - وتر فرض نہیں مگر سنت ہے

وتر فرض نماز کی طرح نہیں، مگر نبوی سنت ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۷۷

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قال : " الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

علی روایت:

وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۷۷ کا خلاصہ

اس روایت میں علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں، لیکن یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس حدیث کا موضوع وتر کا مقام ہے۔ ایک طرف متن یہ بتاتا ہے کہ وتر کو فرض نماز کی طرح نہ سمجھا جائے، دوسری طرف یہ بھی کہ اسے معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ یہ نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے۔ یہی توازن اس روایت کی اصل تعلیم ہے۔ “وتر فرض ہے یا سنت” عام لوگوں کا بہت تلاش کیا جانے والا سوال ہے، اور یہ حدیث اسی سوال سے قریب ہے۔ البتہ وضاحت میں صرف متن کی بات کہنی چاہیے: وتر مکتوبہ نماز کی ہیئت کی طرح حتمی نہیں، بلکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے۔ اس سے قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ دینی بات میں الفاظ کا فرق اہم ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وتر کو فرض نماز کی طرح حتمی نہیں کہا گیا۔
  • وتر کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سنت بتایا گیا۔
  • حدیث وتر کے مقام کو متوازن انداز میں بیان کرتی ہے۔
  • الفاظ کے فرق کو سمجھنا دینی مسائل میں ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں