سنن نسائی حدیث ۱۶۸ - چراغ نہ ہونے کے دور کی نماز
گھر میں نماز اور سجدہ کی جگہ
سنن نسائی : ۱۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۸
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ، وَالْبُيُوتُ يَوْمِئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ " .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکے لگاتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے سوتی تھیں اور ان کے دونوں پاؤں آپ صلى الله عليه وسلم کے قبلہ کی طرف ہوتے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کرتے تو انہیں ہلکا سا متوجہ کرتے، وہ اپنے پاؤں سمیٹ لیتیں، پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو وہ پاؤں پھیلا لیتیں۔ آخر میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اس روایت سے واقعہ کی عملی صورت واضح ہو جاتی ہے کہ گھر میں اندھیرا تھا، جگہ محدود تھی، اور سجدہ کے وقت پاؤں سمیٹنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ یہ حدیث نماز کے سامنے لیٹنے، سجدہ کی جگہ، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی گھریلو نماز جیسے موضوعات میں تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے حالات کے باوجود نبی صلى الله عليه وسلم نماز کا اہتمام کرتے تھے۔
- سجدہ کے وقت جگہ بنانے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا پاؤں سمیٹ لیتیں۔
- روایت میں گھروں میں چراغ نہ ہونے کی وضاحت بھی آئی ہے۔
- نماز کے واقعات کو ان کے اصل حالات کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
