سنن نسائی حدیث ۱۶۹ - سجدہ کی عظیم دعا
سجدے میں پناہ مانگنے کی دعا
سنن نسائی : ۱۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
عائشہ روایت:
ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رات کا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کو نہ پایا تو ہاتھ سے تلاش کرنے لگیں۔ ان کا ہاتھ آپ صلى الله عليه وسلم کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم یہ دعا پڑھ رہے تھے کہ اے اللہ، میں تیری رضا کی پناہ لیتا ہوں تیری ناراضگی سے، تیری عافیت کی پناہ لیتا ہوں تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ ہی سے۔ پھر فرمایا کہ میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی۔ یہ حدیث سجدہ کی دعا، اللہ کی پناہ، رضا اور عافیت جیسے مضامین کو نہایت خوب صورت انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم سجدے میں اللہ کی رضا اور عافیت کی دعا کرتے تھے۔
- اللہ کی ناراضگی اور عذاب سے پناہ مانگنا اس دعا میں آیا ہے۔
- انسان اللہ کی مکمل تعریف شمار نہیں کر سکتا۔
- سجدہ دعا اور عاجزی کا مقام ہے، جیسا کہ اس روایت میں نظر آتا ہے۔
