سنن نسائی حدیث ۱۸۵۸ - کافر کے عذاب میں اضافہ
کافر کے عذاب میں گھر والوں کے رونے سے اضافہ
سنن نسائی : ۱۸۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵۸
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : قَصَّهُ لَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ " إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے بعض رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے۔ اس روایت میں ایک خاص قید موجود ہے، یعنی بات کافر کے بارے میں ہے۔ یہ قید اس موضوع کو سمجھنے میں بہت اہم ہے، کیونکہ دوسری روایات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت بھی پڑھی کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عذاب کا معاملہ اللہ کے حکم سے ہے اور کافر کے بارے میں ایک خاص صورت بیان کی گئی ہے۔ اس سے روایت کے الفاظ کو احتیاط سے سمجھنے اور عام بات بنا دینے سے بچنے کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں کافر کے عذاب کا خاص ذکر ہے۔
- حدیث کے الفاظ کی قید کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- دینی مسئلے میں عمومی حکم لگانے سے پہلے متن سمجھنا ضروری ہے۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت اس باب میں اہم ہے۔
