سنن نسائی حدیث ۱۸۷۸ - آگ سے بچاؤ کی ڈھال
اولاد کی وفات پر جہنم سے بچاؤ کی ڈھال
سنن نسائی : ۱۸۷۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۷۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور (اس سے پہلے) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیمار بیٹا لے کر آئی۔ اس نے عرض کیا کہ مجھے ڈر ہے یہ بھی فوت نہ ہو جائے، اور اس سے پہلے میں تین بچوں کو آگے بھیج چکی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لی ہے۔ اس حدیث میں ایک ماں کا خوف، اولاد کی جدائی کا درد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی سب موجود ہیں۔ یہاں تین بچوں کی وفات کا ذکر ہے، اور اسے آگ سے بچاؤ کی ڈھال کہا گیا ہے۔ یہ بات غم زدہ ماں باپ کو امید دیتی ہے کہ اگر وہ صبر کریں اور اللہ کی طرف متوجہ رہیں تو ان کے صدمے میں بھی آخرت کی خیر ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ماں کا بچے کے بارے میں ڈر اور محبت فطری ہے۔
- تین بچوں کی وفات پر حدیث میں آگ سے بچاؤ کی ڈھال کا ذکر ہے۔
- غم زدہ انسان کو نرمی سے تسلی دینا سنت کا طریقہ ہے۔
- اولاد کی وفات کے صدمے میں اللہ سے امید رکھنی چاہیے۔
