سنن نسائی حدیث ۱۸۷۹ - موت کی خبر اور آنسو
موت کی خبر دیتے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں
سنن نسائی : ۱۸۷۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۷۹
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع (کسی آدمی کے ذریعہ) ان کی (موت) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر رضی اللہ عنہما کی موت کی اطلاع اس سے پہلے دے دی کہ ان کی وفات کی عام خبر پہنچتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی خبر دی تو آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ کسی کی وفات پر دل کا غم اور آنکھوں کے آنسو انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ یہاں نوحہ یا واویلا کا ذکر نہیں، بلکہ خاموش اور رحمت بھرے غم کا بیان ہے۔ اس حدیث کو موت کی خبر، تعزیت اور غم میں آنسو کے موضوع پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کے ساتھ رونا منع نہیں، جب زبان اور عمل حد میں رہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موت کی خبر سنانا سنجیدگی اور ادب کے ساتھ ہونا چاہیے۔
- غم میں آنکھوں سے آنسو آنا فطری ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو رحمت اور نرمی کی علامت تھے۔
- صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دل میں غم محسوس نہ ہو۔
